اک جرم محبت کی کیا اور سزا ہوگی

اک جرم محبت کی کیا اور سزا ہوگی
تنہائی کے غم ہوں گے مرنے کی دعا ہوگی


جب حسن کے ہاتھوں سے تکمیل وفا ہوگی
وہ صبح بھی کیا ہوگی وہ شام بھی کیا ہوگی


جائے تو کہاں جائے اب چھوڑ کے رسوائی
اس کی بھی گزر کیسے اب میرے سوا ہوگی


اک جشن مسرت میں کچھ ڈوبتی آوازیں
ٹوٹے ہوئے شیشوں کی پر درد صدا ہوگی


ہر عکس گرفتار آئینہ ہے اے افسرؔ
پرچھائیں بھی انساں کی آئینہ نما ہوگی