غم ہے اک بوجھ جسے دل پہ اٹھائے رکھیے
غم ہے اک بوجھ جسے دل پہ اٹھائے رکھیے
عظمت عشق کی توقیر بڑھائے رکھیے
ٹوٹ کر آنکھ سے مٹی میں نہ مل جائیں کہیں
اشک غم ہیں انہیں دامن پہ سجائے رکھئے
بے رخی ان کی محبت میں بدل جائے گی
شمع امید ابھی دل میں جلائے رکھیے
دامن ضبط نہ چھٹ جائے کہیں ہاتھوں سے
اشک غم کو یوں ہی پلکوں میں چھپائے رکھیے
ان کا بخشا ہوا ہر زخم ہے نعمت افسرؔ
ان کے ہر تیر کو سینے سے لگائے رکھیے