تو ادا شناس وفا نہیں تو میں دل لگا کے کروں گا کیا

تو ادا شناس وفا نہیں تو میں دل لگا کے کروں گا کیا
تو نہ نغمہ ساز حیات ہے ترے گیت گا کے کروں گا کیا


اسی رہ گزر پہ ملے تھے ہم یہیں ساتھ ساتھ چلے تھے ہم
یہیں میری منزل شوق ہے میں یہاں سے جا کے کروں گا کیا


تو ہے ہر نفس مری زندگی یہ ہے میرا مسلک بندگی
تری یاد جزو حیات ہے تجھے میں بھلا کے کروں گا کیا


وہ فضا ہی جیسے بدل گئی مری حسرتوں کو مسل گئی
نہ وہ شاخ گل ہے نہ آشیاں میں چمن میں جا کے کروں گا کیا


یہی افسرؔ اپنا مقام ہے کہیں سجدہ کرنا حرام ہے
ہے انہیں کا در ہی حرم مجھے کہیں سر جھکا کے کروں گا کیا