کب وہ کسی حسین سے کمتر دکھائی دے

کب وہ کسی حسین سے کمتر دکھائی دے
مجھ کو نہ اس کا کوئی بھی ہمسر دکھائی دے


ہے بے وفا کوئی تو کوئی خوگر ستم
مہر و وفا کا کوئی تو پیکر دکھائی دے


کیا پر سکوں نظام تھا کل تیری بزم کا
ہر سمت آج اک نیا محشر دکھائی دے


اس کے ہزار رنگ ہیں اس کے ہزار روپ
قاتل دکھائی دے کبھی دلبر دکھائی دے


پائی گئی ہے محفل شعر و سخن اداس
رونقؔ سا اب نہ ہم کو سخنور دکھائی دے


کس حال میں ہیں کیسے گزرتے ہیں رات دن
یہ پوچھنا جو آپ کو افسرؔ دکھائی دے