Mohammad Abid Ali Abid

محمد عابد علی عابد

محمد عابد علی عابد کی غزل

    نہ بخشا گل کو بھی دست قضا نے

    نہ بخشا گل کو بھی دست قضا نے بہت منت سماجت کی صبا نے سفر میں رہنمائی کے بہانے لگایا برق نے مجھ کو ٹھکانے سلاسل توڑنا مشکل نہیں تھا مجھے روکا سدا عہد وفا نے سوا تیرے نہیں کچھ دیدنی ہے مناظر ہیں سبھی صدیوں پرانے توازن رشتوں میں رکھا ہے قائم جفا نے آپ کی میری وفا نے

    مزید پڑھیے

    پتھر ہو کہ فولاد ہو ڈرنے کا نہیں میں

    پتھر ہو کہ فولاد ہو ڈرنے کا نہیں میں اب صورت آئینہ بکھرنے کا نہیں میں جو ذات کا میری ہے خلا چیز دگر ہے جو بھر بھی گئے زخم تو بھرنے کا نہیں میں دیکھیں نہ نظر بھر کے مجھے دیر تلک آپ جو چڑھ گیا نظروں میں اترنے کا نہیں میں کی بادہ کشی ترک معابد کے مقابل اب اس سے زیادہ تو سدھرنے کا ...

    مزید پڑھیے

    اسے ملال ہو کیا دوست کی جدائی کا

    اسے ملال ہو کیا دوست کی جدائی کا جو سہہ چکا ہو غم و رنج آشنائی کا بھلائی میں بھی نکالا سبب برائی کا بنا دیا ہے عدو نے پہاڑ رائی کا یہ چاند تارے یہ سورج ہیں کیا دریچے ہیں تجھے بھی شوق ہے گویا کہ خود نمائی کا تڑپتا دیکھ کے چرکے لگائے بسمل کو ستم تو ٹھیک پہ عالم تری ڈھٹائی کا میں ...

    مزید پڑھیے

    مرا رفیق پس جسم و جان زندہ رہا

    مرا رفیق پس جسم و جان زندہ رہا یقین مردہ ہوا پر گمان زندہ رہا جہاں وہ رہتا تھا اب اس کی یاد رہتی ہے مکیں بغیر بھی گویا مکان زندہ رہا بس اس کے ہونے کا احساس ہے غرض کہ خدا وجود واہمے کے درمیان زندہ رہا سخن سے فائدہ کچھ ہو تو کوئی بولے بھی میں جس جگہ بھی رہا بے زبان زندہ رہا تمام ...

    مزید پڑھیے

    جاننے کے لئے بیتاب تھا اغیار کا حال

    جاننے کے لئے بیتاب تھا اغیار کا حال اس نے پوچھا نہ ہمارے دل بیمار کا حال شمع بھی جلنے پہ آمادہ تھی پروانہ بھی ایک جیسا ہی تھا مطلوب و طلبگار کا حال سوگواری میں ہماری تھے برابر کے شریک ہم سے ملتا تھا ہمارے در و دیوار کا حال سرو تمثال ہے قامت میں شباہت میں گلاب کیا بیاں سامنے اس ...

    مزید پڑھیے

    کسی گوشے میں دنیا کے مکیں ہوتے ہوئے بھی

    کسی گوشے میں دنیا کے مکیں ہوتے ہوئے بھی وہ میرے ساتھ رہتا ہے نہیں ہوتے ہوئے بھی مسلسل آزمائش میں مجھے ظالم نے رکھا کیا میں نے نہیں سجدہ جبیں ہوتے ہوئے بھی مسلسل مارتے رہتے ہیں شب خوں ذہن و دل پر عزیزاں رفتگاں زیر زمیں ہوتے ہوئے بھی گزاری ہم نے ساری زندگی عشق بتاں میں مکمل اس ...

    مزید پڑھیے

    وہ بہت خوش ہے خطابات و مراعات کے ساتھ

    وہ بہت خوش ہے خطابات و مراعات کے ساتھ خوب بدلا وہ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ دل کے نزدیک پرے آنکھ سے رہنے والے کیا تعلق ہے تری یاد کا برسات کے ساتھ میری خواہش کا ذرا بھی نہ رکھا پاس اس نے مجھ کو لوٹا دیا خط چند ہدایات کے ساتھ نکہت و نور و ضیا حسن کی پہچان بنے عشق منسوب ہوا بام ...

    مزید پڑھیے

    سردی و گرمی و برسات میں آ جاتا ہے

    سردی و گرمی و برسات میں آ جاتا ہے مجھ سے ملنے وہ مضافات میں آ جاتا ہے فصل گل آنے پہ ہو جاتی ہے ویرانی دور دل خرابے سے خرابات میں آ جاتا ہے کبھی دانستہ ادا ہو کبھی نا دانستہ نام تیرا مری ہر بات میں آ جاتا ہے جسم کی نشو و نما صورت اشیائے زمیں روئے خوباں فلکیات میں آ جاتا ہے عشق کا ...

    مزید پڑھیے

    کہسار کے دامن میں ہوا تیز بہت ہے

    کہسار کے دامن میں ہوا تیز بہت ہے پر یہ کہ مرا دوست کم آمیز بہت ہے اتنا نہ ہوئے ہوتے ہم افسردہ وطن میں ہجرت میں تری یاد غم انگیز بہت ہے حسن آتا ہے اشیاء میں موقع سے محل سے ہر مار سیہ زلف دل آویز بہت ہے برسات کے موسم میں کرے نالہ نہ کوئی بارش سے یہاں سیل رواں تیز بہت ہے جو نور ہے ...

    مزید پڑھیے

    ثبوت اپنی محبت کا اسے دینا ضروری تھا

    ثبوت اپنی محبت کا اسے دینا ضروری تھا اڑانا خاک کرنا چاک دامن کا شعوری تھا شرار سنگ سے حسب ضرورت آگ روشن کی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ ناری تھانہ نوری تھا کنار راہ جو اشجار تھے سائے کی خاطر تھے بتانا کام سنگ میل کا منزل سے دوری تھا ستم ڈھانا مکرنا اور مجھے خاموش کر دینا محبت میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2