سردی و گرمی و برسات میں آ جاتا ہے

سردی و گرمی و برسات میں آ جاتا ہے
مجھ سے ملنے وہ مضافات میں آ جاتا ہے


فصل گل آنے پہ ہو جاتی ہے ویرانی دور
دل خرابے سے خرابات میں آ جاتا ہے


کبھی دانستہ ادا ہو کبھی نا دانستہ
نام تیرا مری ہر بات میں آ جاتا ہے


جسم کی نشو و نما صورت اشیائے زمیں
روئے خوباں فلکیات میں آ جاتا ہے


عشق کا صبر و تحمل ہی سے قائم ہے وقار
نالہ فریاد خرافات میں آ جاتا ہے


خدمت خلق سے ہوتی ہے خدا کی خدمت
عشق مخلوق عبادات میں آ جاتا ہے


بندہ ہو جاتا ہے جب خوگر مشکل عابدؔ
ذائقہ تلخئ حالات میں آ جاتا ہے