اسے ملال ہو کیا دوست کی جدائی کا

اسے ملال ہو کیا دوست کی جدائی کا
جو سہہ چکا ہو غم و رنج آشنائی کا


بھلائی میں بھی نکالا سبب برائی کا
بنا دیا ہے عدو نے پہاڑ رائی کا


یہ چاند تارے یہ سورج ہیں کیا دریچے ہیں
تجھے بھی شوق ہے گویا کہ خود نمائی کا


تڑپتا دیکھ کے چرکے لگائے بسمل کو
ستم تو ٹھیک پہ عالم تری ڈھٹائی کا


میں جب یہاں سے گیا میرے ہاتھ خالی تھے
حساب لے لیا دنیا نے پائی پائی کا