Mohammad Abid Ali Abid

محمد عابد علی عابد

محمد عابد علی عابد کی غزل

    حائل ہے حجاب شرم و حیا دیدار تو کیا گفتار تو کیا

    حائل ہے حجاب شرم و حیا دیدار تو کیا گفتار تو کیا مبہم ہیں اشارے سب اس کے انکار تو کیا اقرار تو کیا الطاف و کرم کی بارش بھی جو مجھ پہ کرے سنسار تو کیا جب اس نے نہ پوچھا حال مرا دریافت کریں اغیار تو کیا ہے دربدری قسمت میری شوریدہ سری تو ہی لے چل تسکین دل محزوں کے لیے گلزار تو کیا ...

    مزید پڑھیے

    نہ کارواں کا ہمارے کوئی نشان رہا

    نہ کارواں کا ہمارے کوئی نشان رہا نہ ہم سفر نہ ہی کشتی نہ بادبان رہا زمین اپنی طرف کھینچتی رہی مجھ کو سوار سر پہ سدا میرے آسمان رہا مجھے خبر تھی گیا تھا تو غیر سے ملنے میں جان بوجھ کے محفل میں بے زبان رہا تمام عمر مسلط رہا وہ دل پہ مرے تمام عمر میں ظالم کا میزبان رہا ہوا نہ قید ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2