حائل ہے حجاب شرم و حیا دیدار تو کیا گفتار تو کیا
حائل ہے حجاب شرم و حیا دیدار تو کیا گفتار تو کیا مبہم ہیں اشارے سب اس کے انکار تو کیا اقرار تو کیا الطاف و کرم کی بارش بھی جو مجھ پہ کرے سنسار تو کیا جب اس نے نہ پوچھا حال مرا دریافت کریں اغیار تو کیا ہے دربدری قسمت میری شوریدہ سری تو ہی لے چل تسکین دل محزوں کے لیے گلزار تو کیا ...