ثبوت اپنی محبت کا اسے دینا ضروری تھا

ثبوت اپنی محبت کا اسے دینا ضروری تھا
اڑانا خاک کرنا چاک دامن کا شعوری تھا


شرار سنگ سے حسب ضرورت آگ روشن کی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ ناری تھانہ نوری تھا


کنار راہ جو اشجار تھے سائے کی خاطر تھے
بتانا کام سنگ میل کا منزل سے دوری تھا


ستم ڈھانا مکرنا اور مجھے خاموش کر دینا
محبت میں رویہ اس کا چوری سینہ زوری تھا


خدا حافظ کہ آنے کو ہے اپنی منزل مقصود
قیام اپنا جہاں میں مستقل کب تھا عبوری تھا