Mohamamd Rafiq Nadvi Shad

محمد رفیق ندوی شاد

  • 1965

محمد رفیق ندوی شاد کی غزل

    نئی دوستی کے فسانے بہت ہیں

    نئی دوستی کے فسانے بہت ہیں مگر دشمنی کو بہانے بہت ہیں جہاں عورتیں حکمراں ہو گئی ہیں وہاں عالمی تانے بانے بہت ہیں سنبھلنے کو اہل وطن کے لئے بھی دکھائے جو جلوے خدا نے بہت ہیں ہے اسٹار ٹی وی کا تحفہ یہ شاید کہ بچے ہمارے سیانے بہت ہیں غزل وہ جو مردہ دلوں کو جلا دے گلوں بلبلوں کے ...

    مزید پڑھیے

    کہاں ہیں سب کے سب فن کار اپنے

    کہاں ہیں سب کے سب فن کار اپنے لئے پھرتے ہیں جو پندار اپنے رقم تاریخ میں شہکار اپنے ہمیشہ حوصلے ہتھیار اپنے پرندے پھڑپھڑا کر گر رہے ہیں سنبھالو گنبد و مینار اپنے نہیں دس بیس پر موقوف ہستی ہیں لاکھوں سر بکف تیار اپنے ہمیں تخریب کے طعنے نہ دینا جہاں بھر کے ہیں سب معمار ...

    مزید پڑھیے

    بلندی منزلوں کی عزم سے بڑھ کر بناتا ہوں

    بلندی منزلوں کی عزم سے بڑھ کر بناتا ہوں نشان راہ خورشید و مہ و اختر بناتا ہوں یہ اپنا ذوق ہے کہ پتھروں کے شہر میں رہ کر تمہارے واسطے شیشے کا ہمدم گھر بناتا ہوں مصائب سے نہ گھبرانا مری فطرت میں شامل ہے غم و رنج و الم کا روز اک دفتر بناتا ہوں مرے شاہیں صفت بچے حد پرواز تک ...

    مزید پڑھیے

    انسان مال و زر کا پرستار ہو گیا

    انسان مال و زر کا پرستار ہو گیا آسان اب ضمیر کا بیوپار ہو گیا مجرم دماغ جرم کا بیمار ہو گیا دنیا سمجھ رہی ہے کہ فن کار ہو گیا جس نے چلائی ظلم و تعصب کی آندھیاں قانون کیسے اس کا مددگار ہو گیا لے دے کے نوکری پہ چڑھے کہہ رہے ہیں لوگ بھگوان کی دیا ہے چمتکار ہو گیا احباب میرے چہرے سے ...

    مزید پڑھیے