کہاں ہیں سب کے سب فن کار اپنے
کہاں ہیں سب کے سب فن کار اپنے
لئے پھرتے ہیں جو پندار اپنے
رقم تاریخ میں شہکار اپنے
ہمیشہ حوصلے ہتھیار اپنے
پرندے پھڑپھڑا کر گر رہے ہیں
سنبھالو گنبد و مینار اپنے
نہیں دس بیس پر موقوف ہستی
ہیں لاکھوں سر بکف تیار اپنے
ہمیں تخریب کے طعنے نہ دینا
جہاں بھر کے ہیں سب معمار اپنے
انہیں کہتے ہو اپنے گھر کو جائیں
بھلا بیٹھے ہیں جو گھر بار اپنے
تمہاری سختیاں ہیں بے زروں پر
یہ پوچھو تھے کہاں زردار اپنے
ہمیشہ موت کے سوداگروں سے
بھرے ہیں کوچہ و بازار اپنے
اگر ہے امن کی خواہش ہٹاؤ
ہمارے گھر سے پہرے دار اپنے