بلندی منزلوں کی عزم سے بڑھ کر بناتا ہوں
بلندی منزلوں کی عزم سے بڑھ کر بناتا ہوں
نشان راہ خورشید و مہ و اختر بناتا ہوں
یہ اپنا ذوق ہے کہ پتھروں کے شہر میں رہ کر
تمہارے واسطے شیشے کا ہمدم گھر بناتا ہوں
مصائب سے نہ گھبرانا مری فطرت میں شامل ہے
غم و رنج و الم کا روز اک دفتر بناتا ہوں
مرے شاہیں صفت بچے حد پرواز تک پہنچیں
کچھ اس انداز سے میں ان کے بال و پر بناتا ہوں
ہوں اپنی قوم کا جراح یوں کہتے ہیں اہل فن
اسی خاطر میں فکر و فن کے کچھ نشتر بناتا ہوں
مری غزلوں کا ایک اک شعر گویا اک سپاہی ہے
میں کاغذ کے سپاہی کاٹ کر لشکر بناتا ہوں
کہاں ممکن وہ اپنے شادؔ سے باتیں کریں دل کی
خیالوں میں وصال یار کے منظر بناتا ہوں