انسان مال و زر کا پرستار ہو گیا
انسان مال و زر کا پرستار ہو گیا
آسان اب ضمیر کا بیوپار ہو گیا
مجرم دماغ جرم کا بیمار ہو گیا
دنیا سمجھ رہی ہے کہ فن کار ہو گیا
جس نے چلائی ظلم و تعصب کی آندھیاں
قانون کیسے اس کا مددگار ہو گیا
لے دے کے نوکری پہ چڑھے کہہ رہے ہیں لوگ
بھگوان کی دیا ہے چمتکار ہو گیا
احباب میرے چہرے سے پڑھتے ہیں حادثے
گویا کہ حادثوں کا میں اخبار ہو گیا
رکھی ہے تو نے میرے لئے قبر کی زمین
تیرے طفیل میں بھی زمیں دار ہو گیا
پڑھ لکھ کے بیٹا اتنا بڑا ہو گیا کہ آج
ماں باپ سے ہی برسر پیکار ہو گیا