نئی دوستی کے فسانے بہت ہیں

نئی دوستی کے فسانے بہت ہیں
مگر دشمنی کو بہانے بہت ہیں


جہاں عورتیں حکمراں ہو گئی ہیں
وہاں عالمی تانے بانے بہت ہیں


سنبھلنے کو اہل وطن کے لئے بھی
دکھائے جو جلوے خدا نے بہت ہیں


ہے اسٹار ٹی وی کا تحفہ یہ شاید
کہ بچے ہمارے سیانے بہت ہیں


غزل وہ جو مردہ دلوں کو جلا دے
گلوں بلبلوں کے ترانے بہت ہیں


سلامت رہے شادؔ روشن ضمیری
تو محنت کے دو چار آنے بہت ہیں