Mohaamad tahseen Asrar

محمد تحسین اسرار

  • 1968

محمد تحسین اسرار کی غزل

    جذبۂ اخلاص سے وہ آشنا کیوں ہو گیا

    جذبۂ اخلاص سے وہ آشنا کیوں ہو گیا وہ اچانک مائل لطف و عطا کیوں ہو گیا سنگ باری میں کوئی مصروف جب تھا ہی نہیں چور میری زندگی کا آئنہ کیوں ہو گیا نا خدائی جس سفینے کی تمہیں سونپی گئی وہ سفینہ غرق طوفان بلا کیوں ہو گیا تیرا مقصد تھا سنور جائے نظام زندگی فتنہ سازی تیرا آخر مشغلہ ...

    مزید پڑھیے

    کھلی فضا میں پرندوں پہ وار مت کرنا

    کھلی فضا میں پرندوں پہ وار مت کرنا یہ ظالمانہ روش اختیار مت کرنا نگاہ اہل محبت میں دل ہے آئینہ اس آئنے کو کبھی داغدار مت کرنا ہمیشہ خون کے آنسو رلائے گا تم کو جو خود غرض ہو بہت اس سے پیار مت کرنا کسی بھی شخص پہ کر لینا تم یقیں لیکن مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرنا حصول زر کی تمنا ...

    مزید پڑھیے

    کوئی الم کے لئے ہے کوئی خوشی کے لئے

    کوئی الم کے لئے ہے کوئی خوشی کے لئے ہیں آزمائشیں ہر لمحہ آدمی کے لئے خدا کے واسطے دامن کشاں نہ ہو مجھ سے میں چھوڑ سکتا ہوں دنیا تری خوشی کے لئے سکون ملتا ہے دنیا میں امتحان کے بعد اسی لئے یہ ضروری ہے ہر کسی کے لئے اسی نے لوٹ لیا اپنا کاروان حیات چنا تھا ہم نے جسے اپنی رہبری کے ...

    مزید پڑھیے

    ہم نے یوں پرچم معیار اٹھا رکھا ہے

    ہم نے یوں پرچم معیار اٹھا رکھا ہے کاغذی پھولوں سے گھر اپنا سجا رکھا ہے سب پہ چھایا ہوا ہے رعب ستم گاری کا دل میں لوگوں نے کہاں خوف خدا رکھا ہے اپنا حق مانگنا کیا جرم کوئی ہے آخر تم نے اس بات پہ کیوں حشر اٹھا رکھا ہے وہ جو غافل ہے یہاں جذبۂ ہمدردی سے نام کیوں اس کا بھلا اہل وفا ...

    مزید پڑھیے