جذبۂ اخلاص سے وہ آشنا کیوں ہو گیا

جذبۂ اخلاص سے وہ آشنا کیوں ہو گیا
وہ اچانک مائل لطف و عطا کیوں ہو گیا


سنگ باری میں کوئی مصروف جب تھا ہی نہیں
چور میری زندگی کا آئنہ کیوں ہو گیا


نا خدائی جس سفینے کی تمہیں سونپی گئی
وہ سفینہ غرق طوفان بلا کیوں ہو گیا


تیرا مقصد تھا سنور جائے نظام زندگی
فتنہ سازی تیرا آخر مشغلہ کیوں ہو گیا


ڈس لیا مالی کی چشم بد نے کیا اسرارؔ اسے
سوچئے تو شاخ سے پتا جدا کیوں ہو گیا