کھلی فضا میں پرندوں پہ وار مت کرنا

کھلی فضا میں پرندوں پہ وار مت کرنا
یہ ظالمانہ روش اختیار مت کرنا


نگاہ اہل محبت میں دل ہے آئینہ
اس آئنے کو کبھی داغدار مت کرنا


ہمیشہ خون کے آنسو رلائے گا تم کو
جو خود غرض ہو بہت اس سے پیار مت کرنا


کسی بھی شخص پہ کر لینا تم یقیں لیکن
مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرنا


حصول زر کی تمنا میں اتنا یاد رہے
کسی کا دامن جاں تار تار مت کرنا


پھسل گئے ہیں جو لمحے تمہارے ہاتھوں سے
پلٹ کے آئیں گے یہ انتظار مت کرنا


تمہارے پیار پہ جس کو بہت بھروسہ ہو
اسے خدا کے لئے اشک بار مت کرنا


تمہارے واسطے جو باعث ندامت ہو
کوئی بھی ایسا عمل اختیار مت کرنا


یہ اور بات کہ اسرارؔ جلد آ نہ سکے
تم اپنے دل کو بہت بے قرار مت کرنا