ہم نے یوں پرچم معیار اٹھا رکھا ہے

ہم نے یوں پرچم معیار اٹھا رکھا ہے
کاغذی پھولوں سے گھر اپنا سجا رکھا ہے


سب پہ چھایا ہوا ہے رعب ستم گاری کا
دل میں لوگوں نے کہاں خوف خدا رکھا ہے


اپنا حق مانگنا کیا جرم کوئی ہے آخر
تم نے اس بات پہ کیوں حشر اٹھا رکھا ہے


وہ جو غافل ہے یہاں جذبۂ ہمدردی سے
نام کیوں اس کا بھلا اہل وفا رکھا ہے


میں ترا ظلم نہیں بھولا مگر تیرے لیے
آج بھی ذہن کا دروازہ کھلا رکھا ہے


جانتا ہے وہ مری عزت و توقیر ہے کیا
جس نے نیزے پہ مرے سر کو اٹھا رکھا ہے


تم کو معلوم ہے کیا اپنی حقیقت اسرارؔ
خود کو آئینے سے کیوں تم نے بچا رکھا ہے