کوئی الم کے لئے ہے کوئی خوشی کے لئے

کوئی الم کے لئے ہے کوئی خوشی کے لئے
ہیں آزمائشیں ہر لمحہ آدمی کے لئے


خدا کے واسطے دامن کشاں نہ ہو مجھ سے
میں چھوڑ سکتا ہوں دنیا تری خوشی کے لئے


سکون ملتا ہے دنیا میں امتحان کے بعد
اسی لئے یہ ضروری ہے ہر کسی کے لئے


اسی نے لوٹ لیا اپنا کاروان حیات
چنا تھا ہم نے جسے اپنی رہبری کے لئے


یہیں پہ اپنے پرائے سمجھ میں آتے ہیں
ضروری ہے غم دوراں بھی زندگی کے لئے


ضرور کرتا ہے وہ ہم پہ رحمتوں کا نزول
جہاں بھی جاتے ہیں ہم اس کی بندگی کے لئے