Mirza Shariq Laharpuri

مرزا شارق لاہر پوری

مرزا شارق لاہر پوری کی غزل

    کیا صبح سے غرض مری کیا شام سے غرض

    کیا صبح سے غرض مری کیا شام سے غرض اے خوش ادا ہے مجھ کو ترے کام سے غرض اک بندگی کے شہر کے مصروف کار کو تعریف سے غرض ہے نہ دشنام سے غرض اے ارتقا مزاج تجھے ایسا کیا ہوا وابستہ ہو گئی تری اوہام سے غرض میں تو مسافر رہ عالی نصیب ہوں اسباب کے لیے مجھے ہر کام سے غرض بس اتنا جان لیجئے ...

    مزید پڑھیے

    کیا کچھ نہ مجھ سے وقت کا عیار لے گیا

    کیا کچھ نہ مجھ سے وقت کا عیار لے گیا رسوائی دے کے عظمت کردار لے گیا نفرت کی بود و باش سے مجھ کو غرض نہیں جو میرے پاس آ گیا وہ پیار لے گیا وہ قہقہے لٹائے ہے اب میرے حال پر جو میرے گھر سے شمع ضیا بار لے گیا بچوں کو کس طرح سے میں بہلا سکوں گا آج بازار کے کھلونے تو زردار لے گیا میرے ...

    مزید پڑھیے

    قتل امیر شہر کا لاڈلا بیٹا کر گیا

    قتل امیر شہر کا لاڈلا بیٹا کر گیا جرم مگر غریب کے لخت جگر کے سر گیا صبح سے شام ہو گئی وقت کی دھوپ‌ چھاؤں میں لمحہ بہ لمحہ عمر کا سارا سفر گزر گیا کیسا وہ ہوگا سنگ غم سہم کے جس کے خوف سے آئنا چھٹ کے فرش پر چاروں طرف بکھر گیا لاکھ غریب ہوں مگر پھر بھی ہوں ایک آدمی کیسے مرے ضمیر کا ...

    مزید پڑھیے

    غم بھی مرا عجیب ہے میری خوشی عجیب

    غم بھی مرا عجیب ہے میری خوشی عجیب بخشی ہے رب حق نے مجھے زندگی عجیب پھولوں کا جسم جھلسے ہے کانٹوں پہ تازگی اس آفتاب عصر کی ہے روشنی عجیب رہتے ہیں ساتھ ساتھ مگر بے توجہ سے لگتی ہے مجھ کو آپ کی پہلو تہی عجیب مجبور عشق ہوں میں نہیں تو اے میرے دل کل ان سے گفتگو تو ہوئی واقعی عجیب وہ ...

    مزید پڑھیے