کیا کچھ نہ مجھ سے وقت کا عیار لے گیا

کیا کچھ نہ مجھ سے وقت کا عیار لے گیا
رسوائی دے کے عظمت کردار لے گیا


نفرت کی بود و باش سے مجھ کو غرض نہیں
جو میرے پاس آ گیا وہ پیار لے گیا


وہ قہقہے لٹائے ہے اب میرے حال پر
جو میرے گھر سے شمع ضیا بار لے گیا


بچوں کو کس طرح سے میں بہلا سکوں گا آج
بازار کے کھلونے تو زردار لے گیا


میرے علاوہ کون ہے کچھ تو بتائیے
جو شخص اونچ نیچ کی دیوار لے گیا


اہل ہوس کو فکر کہ اک بھوکا شخص بھی
کیسے بچا کے دامن کردار لے گیا


الزام غیر پر کوئی آئے تو کس لیے
شارقؔ کو اس کا فرض سر دار لے گیا