قتل امیر شہر کا لاڈلا بیٹا کر گیا

قتل امیر شہر کا لاڈلا بیٹا کر گیا
جرم مگر غریب کے لخت جگر کے سر گیا


صبح سے شام ہو گئی وقت کی دھوپ‌ چھاؤں میں
لمحہ بہ لمحہ عمر کا سارا سفر گزر گیا


کیسا وہ ہوگا سنگ غم سہم کے جس کے خوف سے
آئنا چھٹ کے فرش پر چاروں طرف بکھر گیا


لاکھ غریب ہوں مگر پھر بھی ہوں ایک آدمی
کیسے مرے ضمیر کا آج وہ مول کر گیا


امن و سکوں کے گاؤں میں مست مگن تھا میں مگر
کون مری حیات کو خانہ بدوش کر گیا


آپ کی قدر و منزلت دیکھ شب عروج میں
وقت بھی احترام میں چل نہ سکا ٹھہر گیا


میری ردا کی فکر کیا تن کی قبا کی فکر کیا
آج تمہارے شہر سے شارقؔ دیدہ ور گیا