کیا صبح سے غرض مری کیا شام سے غرض
کیا صبح سے غرض مری کیا شام سے غرض
اے خوش ادا ہے مجھ کو ترے کام سے غرض
اک بندگی کے شہر کے مصروف کار کو
تعریف سے غرض ہے نہ دشنام سے غرض
اے ارتقا مزاج تجھے ایسا کیا ہوا
وابستہ ہو گئی تری اوہام سے غرض
میں تو مسافر رہ عالی نصیب ہوں
اسباب کے لیے مجھے ہر کام سے غرض
بس اتنا جان لیجئے سچائی کے طفیل
شاعر ہوں کچھ تو ہے مجھے ابہام سے غرض
جو مست شاد کام ہو فکروں کے درمیاں
اس کے لبوں کو کیوں ہو مئے و جام سے غرض
شارقؔ ملازمت کا ہے یہ آخری پڑاؤ
کیوں ہو اب اختلاف کے ہنگام سے غرض