غم بھی مرا عجیب ہے میری خوشی عجیب

غم بھی مرا عجیب ہے میری خوشی عجیب
بخشی ہے رب حق نے مجھے زندگی عجیب


پھولوں کا جسم جھلسے ہے کانٹوں پہ تازگی
اس آفتاب عصر کی ہے روشنی عجیب


رہتے ہیں ساتھ ساتھ مگر بے توجہ سے
لگتی ہے مجھ کو آپ کی پہلو تہی عجیب


مجبور عشق ہوں میں نہیں تو اے میرے دل
کل ان سے گفتگو تو ہوئی واقعی عجیب


وہ کون حسن ناز ہے جس کے وسیلے سے
تاریکیوں میں پھیل گئی چاندنی عجیب


ہیں مصلحت کے دور کی نیرنگیاں تمام
ہے چارہ گر عجیب نہ چارہ گری عجیب


دشمن بھی دشمنی سے گریزاں ہوا ہے آج
شارقؔ تمہارے دوست کی ہے دوستی عجیب