Mehrbaan Amrohvi

مہربان امروہوی

مہربان امروہوی کی غزل

    ایک ویرانی سی چھائی آپ کے جانے کے بعد

    ایک ویرانی سی چھائی آپ کے جانے کے بعد دل میں ہے وحشت سمائی آپ کے جانے کے بعد دن گزرتا ہی نہیں اور رات بھی کٹتی نہیں جان پر میری بن آئی آپ کے جانے کے بعد رونا دھونا کچھ نہ کھانا اور جھڑک کر بولنا ہم نے یہ عادت بنائی آپ کے جانے کے بعد دکھ دیے تکلیف دی خود کو ملامت بھی کیا ہو گئی خود ...

    مزید پڑھیے

    کسی کو حسن کسی کو ادا نہیں دیتا

    کسی کو حسن کسی کو ادا نہیں دیتا کمال سب کو خدا ایک سا نہیں دیتا عجیب شخص ہے بھٹکے ہوئے مسافر کو پتہ تو دیتا ہے پر راستہ نہیں دیتا یہ سب ہمارے ہی کمال کا نتیجہ ہے خدا کسی کو کبھی خود سزا نہیں دیتا اسے کسی بھی وسیلے کی کیا ضرورت ہے وہ حال دل مجھے خود کیوں بتا نہیں دیتا یہ ...

    مزید پڑھیے

    عشق جب عشق سے لڑا ہوگا

    عشق جب عشق سے لڑا ہوگا حادثہ وہ بہت بڑا ہوگا آج پھر آپ ملنے آئے ہیں پھر کوئی کام آ پڑا ہوگا کون دیکھے گا پھر مری جانب جب مرے پاس وہ کھڑا ہوگا آپ نے منتیں بھی کی ہوں گی وہ مگر ضد پہ ہی اڑا ہوگا جتنا آساں سمجھ رہے ہو تم امتحاں اتنا ہی کڑا ہوگا آپ نے جو دیا تھا تاج محل دیکھتا ہوں ...

    مزید پڑھیے

    میرے حالات سے منہ موڑ کے جانے والے

    میرے حالات سے منہ موڑ کے جانے والے تجھ سے کچھ پوچھ رہے ہیں یہ زمانے والے دیکھ کر تجھ کو وہ اب راہ بدل لیتے ہیں میری آواز سے آواز ملانے والے تو بھی آ جائے گا حالات کی زد میں اک دن میری بربادی کے افسانے سنانے والے جانب شہر وفا سوچ سمجھ کر جانا لوٹ کے آتے نہیں ہیں وہاں جانے ...

    مزید پڑھیے

    جو سامنے طوفان کے آیا نہیں کرتے

    جو سامنے طوفان کے آیا نہیں کرتے ہم ایسے چراغوں کو جلایا نہیں کرتے جو سن کے اڑا دیتے ہوں ہر بات ہنسی میں احوال انہیں دل کے سنایا نہیں کرتے کس طرح پھلے پھولے محبت یہ ہماری وہ روٹھ تو جاتے ہیں منایا نہیں کرتے رکھتے ہیں موبائل میں محبت کی نشانی اب پھول کتابوں میں چھپایا نہیں ...

    مزید پڑھیے