جو سامنے طوفان کے آیا نہیں کرتے
جو سامنے طوفان کے آیا نہیں کرتے
ہم ایسے چراغوں کو جلایا نہیں کرتے
جو سن کے اڑا دیتے ہوں ہر بات ہنسی میں
احوال انہیں دل کے سنایا نہیں کرتے
کس طرح پھلے پھولے محبت یہ ہماری
وہ روٹھ تو جاتے ہیں منایا نہیں کرتے
رکھتے ہیں موبائل میں محبت کی نشانی
اب پھول کتابوں میں چھپایا نہیں کرتے
تعداد ستاروں کی زیادہ تو ہے لیکن
سورج کے مقابل کبھی آیا نہیں کرتے
رضوان بنے بیٹھے ہیں وہ لوگ یہاں پر
جو پیر کبھی ماں کے دبایا نہیں کرتے
کہتے ہیں بڑے بوڑھے کی گھٹ جاتی ہیں عزت
ہر روز کسی کے یہاں جایا نہیں کرتے