عشق جب عشق سے لڑا ہوگا

عشق جب عشق سے لڑا ہوگا
حادثہ وہ بہت بڑا ہوگا


آج پھر آپ ملنے آئے ہیں
پھر کوئی کام آ پڑا ہوگا


کون دیکھے گا پھر مری جانب
جب مرے پاس وہ کھڑا ہوگا


آپ نے منتیں بھی کی ہوں گی
وہ مگر ضد پہ ہی اڑا ہوگا


جتنا آساں سمجھ رہے ہو تم
امتحاں اتنا ہی کڑا ہوگا


آپ نے جو دیا تھا تاج محل
دیکھتا ہوں کہیں پڑا ہوگا


مہرباںؔ تم اگر جو ہو جاؤ
مجھ پہ احسان یہ بڑا ہوگا