کسی کو حسن کسی کو ادا نہیں دیتا
کسی کو حسن کسی کو ادا نہیں دیتا
کمال سب کو خدا ایک سا نہیں دیتا
عجیب شخص ہے بھٹکے ہوئے مسافر کو
پتہ تو دیتا ہے پر راستہ نہیں دیتا
یہ سب ہمارے ہی کمال کا نتیجہ ہے
خدا کسی کو کبھی خود سزا نہیں دیتا
اسے کسی بھی وسیلے کی کیا ضرورت ہے
وہ حال دل مجھے خود کیوں بتا نہیں دیتا
یہ بدگمانیاں اچھی نہیں کسی کے لئے
تو بد دعا بھی نہ دے گر دعا نہیں دیتا
یہ دور دور موبائل ہے اب یہاں انساں
تماشہ دیکھتا ہے آسرا نہیں دیتا
یہ مہربانؔ بھی ہجرت قبول کر لیتا
وہ مجھ کو اپنا اگر واسطہ نہیں دیتا