میرے حالات سے منہ موڑ کے جانے والے

میرے حالات سے منہ موڑ کے جانے والے
تجھ سے کچھ پوچھ رہے ہیں یہ زمانے والے


دیکھ کر تجھ کو وہ اب راہ بدل لیتے ہیں
میری آواز سے آواز ملانے والے


تو بھی آ جائے گا حالات کی زد میں اک دن
میری بربادی کے افسانے سنانے والے


جانب شہر وفا سوچ سمجھ کر جانا
لوٹ کے آتے نہیں ہیں وہاں جانے والے


دل کے اس ٹوٹتے رشتے کا بھرم رہ جائے
اک نظر دیکھ لے اے روٹھ کے جانے والے


آ کبھی دیکھ مرا حال‌ جدائی آ کر
غیر کی بزم میں اے ہنسنے ہنسانے والے


وقت سے سیکھا ہے میں نے یہ ہنر جینے کا
خود ہی گر جاتے ہیں اوروں کو گرانے والے


مہرباںؔ دل کا ہے نازک یہ ذرا یاد رہے
اے مرے دل پہ نئے زخم لگانے والے