تجھے بد نام کرنے پر تلی ہے
تجھے بد نام کرنے پر تلی ہے
گلی ہر راہ رو کو ٹوکتی ہے
مرا قصہ مگر تجھ سے تہی سے
تری باتوں میں کیا شائستگی ہے
سکوت دشت بے خوابی میں پہروں
صدائے بربط شب گونجتی ہے
وہیں تک ہے کھنڈر کی آخری حد
جہاں تک چاندنی پھیلی ہوئی ہے
مری تخئیل کے افسردہ لب پر
وہ اپنے ہونٹ رکھ کر سو گئی ہے