Mauj Rampuri

موج رامپوری

موج رامپوری کی غزل

    وفا کی روشنی کم ہو رہی ہے

    وفا کی روشنی کم ہو رہی ہے طبیعت مائل غم ہو رہی ہے سیہ بختی کے سائے بڑھ رہے ہیں سکوں کی زلف برہم ہو رہی ہے امیدیں یاس میں ڈوبی ہوئی ہیں تمنا باعث غم ہو رہی ہے وفا کے نام کو تم بھی مٹا دو وفا تمہید ماتم ہو رہی ہے یہ کس انداز سے دیکھا ہے تم نے خوشی سے آنکھ پر نم ہو رہی ہے خلش کی ...

    مزید پڑھیے

    اجاگر ہو گئے رخ زندگی کے

    اجاگر ہو گئے رخ زندگی کے وگرنہ تھے ارادے خودکشی کے ملے ہیں ان سے موقعے دوستی کے بڑے ممنون ہیں ہم زندگی کے یہ میدان وفا ہی ہے وہ میداں جہاں کھلتے ہیں جوہر آدمی کے کرم اے سخنی راہ محبت قدم تھرا گئے ہیں زندگی کے قدم چومے گی بڑھ کر کامیابی ارادے کیجئے منزل رسی کے نگاہ ناز نے کروٹ ...

    مزید پڑھیے

    سب کا چہرہ ترے جیسے کیوں ہے

    سب کا چہرہ ترے جیسے کیوں ہے یہ مجھے وہم سا ہوتا کیوں ہے جب کوئی عیب نہیں ہے تجھ میں آئینہ دیکھ کے ڈرتا کیوں ہے مشورہ یہ بھی تو ہے دنیا کا کوئی اچھا ہے تو اچھا کیوں ہے

    مزید پڑھیے

    بیٹھے ہیں ہم متاع محبت لیے ہوئے

    بیٹھے ہیں ہم متاع محبت لیے ہوئے پہلو میں تیرے درد کی دولت لیے ہوئے دامن ہے تار تار گریباں ہے چاک چاک ہم ہیں جنون عشق کی دولت لیے ہوئے اٹھتی ہے بار بار سر محفل طرب اس شوخ کی نگاہ شرارت لیے ہوئے برباد کر کے چھوڑے گی دفتر گناہ کے وہ آنکھ ہے جو اشک ندامت لیے ہوئے مجھ کو بھلا نظر سے ...

    مزید پڑھیے

    چمن میں رہ کے گلوں پر جب اختیار نہ ہو

    چمن میں رہ کے گلوں پر جب اختیار نہ ہو تو وہ چمن کبھی شرمندۂ بہار نہ ہو کوئی جہان میں عظمت بہار کی نہ کرے اگر ہمارا گریباں ہی تار تار نہ ہو یہ بھید کھل نہیں سکتا ہے اہل ظاہر پر کوئی جنون محبت کا رازدار نہ ہو ابھی تو ایسی ہزاروں شبیں گزرنی ہیں اسیر شام الم اتنا بے قرار نہ ہو وہی ...

    مزید پڑھیے

    فقط افسانۂ ماضی کو دہرانے سے کیا ہوگا

    فقط افسانۂ ماضی کو دہرانے سے کیا ہوگا عمل بھی کر فریب سر خوشی کھانے سے کیا ہوگا عبث زردار بل کھاتا ہے بل کھانے سے کیا ہوگا زمانہ جانتا ہے انقلاب آنے سے کیا ہوگا بہاروں کی دعائیں کیا نہ لیں نام بہاراں بھی چمن والے اگر سمجھیں بہار آنے سے کیا ہوگا حقیقی انقلاب آ کر بدل دیتا ہے ...

    مزید پڑھیے