Mauj Rampuri

موج رامپوری

موج رامپوری کے تمام مواد

6 غزل (Ghazal)

    وفا کی روشنی کم ہو رہی ہے

    وفا کی روشنی کم ہو رہی ہے طبیعت مائل غم ہو رہی ہے سیہ بختی کے سائے بڑھ رہے ہیں سکوں کی زلف برہم ہو رہی ہے امیدیں یاس میں ڈوبی ہوئی ہیں تمنا باعث غم ہو رہی ہے وفا کے نام کو تم بھی مٹا دو وفا تمہید ماتم ہو رہی ہے یہ کس انداز سے دیکھا ہے تم نے خوشی سے آنکھ پر نم ہو رہی ہے خلش کی ...

    مزید پڑھیے

    اجاگر ہو گئے رخ زندگی کے

    اجاگر ہو گئے رخ زندگی کے وگرنہ تھے ارادے خودکشی کے ملے ہیں ان سے موقعے دوستی کے بڑے ممنون ہیں ہم زندگی کے یہ میدان وفا ہی ہے وہ میداں جہاں کھلتے ہیں جوہر آدمی کے کرم اے سخنی راہ محبت قدم تھرا گئے ہیں زندگی کے قدم چومے گی بڑھ کر کامیابی ارادے کیجئے منزل رسی کے نگاہ ناز نے کروٹ ...

    مزید پڑھیے

    سب کا چہرہ ترے جیسے کیوں ہے

    سب کا چہرہ ترے جیسے کیوں ہے یہ مجھے وہم سا ہوتا کیوں ہے جب کوئی عیب نہیں ہے تجھ میں آئینہ دیکھ کے ڈرتا کیوں ہے مشورہ یہ بھی تو ہے دنیا کا کوئی اچھا ہے تو اچھا کیوں ہے

    مزید پڑھیے

    بیٹھے ہیں ہم متاع محبت لیے ہوئے

    بیٹھے ہیں ہم متاع محبت لیے ہوئے پہلو میں تیرے درد کی دولت لیے ہوئے دامن ہے تار تار گریباں ہے چاک چاک ہم ہیں جنون عشق کی دولت لیے ہوئے اٹھتی ہے بار بار سر محفل طرب اس شوخ کی نگاہ شرارت لیے ہوئے برباد کر کے چھوڑے گی دفتر گناہ کے وہ آنکھ ہے جو اشک ندامت لیے ہوئے مجھ کو بھلا نظر سے ...

    مزید پڑھیے

    چمن میں رہ کے گلوں پر جب اختیار نہ ہو

    چمن میں رہ کے گلوں پر جب اختیار نہ ہو تو وہ چمن کبھی شرمندۂ بہار نہ ہو کوئی جہان میں عظمت بہار کی نہ کرے اگر ہمارا گریباں ہی تار تار نہ ہو یہ بھید کھل نہیں سکتا ہے اہل ظاہر پر کوئی جنون محبت کا رازدار نہ ہو ابھی تو ایسی ہزاروں شبیں گزرنی ہیں اسیر شام الم اتنا بے قرار نہ ہو وہی ...

    مزید پڑھیے

تمام