اجاگر ہو گئے رخ زندگی کے
اجاگر ہو گئے رخ زندگی کے
وگرنہ تھے ارادے خودکشی کے
ملے ہیں ان سے موقعے دوستی کے
بڑے ممنون ہیں ہم زندگی کے
یہ میدان وفا ہی ہے وہ میداں
جہاں کھلتے ہیں جوہر آدمی کے
کرم اے سخنی راہ محبت
قدم تھرا گئے ہیں زندگی کے
قدم چومے گی بڑھ کر کامیابی
ارادے کیجئے منزل رسی کے
نگاہ ناز نے کروٹ جو بدلی
بدل کر رہ گئے رخ زندگی کے
رہ انسانیت میں اتفاقا
نکل آئے ہیں گوشے کجروی کے
ہلاکت تھی جہاں ہم رنگ منزل
کچھ ایسے موڑ آئے زندگی کے
بظاہر دیکھنے میں دوستی ہے
دلوں میں فیصلے ہیں دشمنی کے
سلامت ہیں اگر میری وفائیں
بدل جائیں گے پہلو بے رخی کے
تمول کی عنایت پر نہ جانا
الجھ جاتے ہیں دامن بے کسی کے
ہوئی ہے موجؔ مشکل زندگانی
صلے یہ پا رہا ہوں دوستی کے