وفا کی روشنی کم ہو رہی ہے

وفا کی روشنی کم ہو رہی ہے
طبیعت مائل غم ہو رہی ہے


سیہ بختی کے سائے بڑھ رہے ہیں
سکوں کی زلف برہم ہو رہی ہے


امیدیں یاس میں ڈوبی ہوئی ہیں
تمنا باعث غم ہو رہی ہے


وفا کے نام کو تم بھی مٹا دو
وفا تمہید ماتم ہو رہی ہے


یہ کس انداز سے دیکھا ہے تم نے
خوشی سے آنکھ پر نم ہو رہی ہے


خلش کی منزلت ہے میرے دل میں
خلش سے یاد پیہم ہو رہی ہے


بہت سے رنگ بدلے گا زمانہ
عبث تنظیم عالم ہو رہی ہے


نفس کے تار ٹوٹے جا رہے ہیں
کہ چشم موجؔ پر نم ہو رہی ہے