ہجوم بے خودی میں غم کی تصویریں نظر آئیں
ہجوم بے خودی میں غم کی تصویریں نظر آئیں مجھے شیشے میں جب رندوں کی تقدیریں نظر آئیں مرے ذہن رسا نے جذب کر لیں حوصلہ پا کر رخ گل پر مشیت کی جو تحریریں نظر آئیں در زنداں سے چھٹ کر بھی وہی ہے سلسلہ یعنی کہ اک زنجیر ٹوٹی لاکھ زنجیریں نظر آئیں چمن والے جنہیں جان چمن کہتے تھے وہ ...