Masood Maikash Muradabadi

مسعود میکش مراد آبادی

مسعود میکش مراد آبادی کی غزل

    ہجوم بے خودی میں غم کی تصویریں نظر آئیں

    ہجوم بے خودی میں غم کی تصویریں نظر آئیں مجھے شیشے میں جب رندوں کی تقدیریں نظر آئیں مرے ذہن رسا نے جذب کر لیں حوصلہ پا کر رخ گل پر مشیت کی جو تحریریں نظر آئیں در زنداں سے چھٹ کر بھی وہی ہے سلسلہ یعنی کہ اک زنجیر ٹوٹی لاکھ زنجیریں نظر آئیں چمن والے جنہیں جان چمن کہتے تھے وہ ...

    مزید پڑھیے

    خوشی کے وقت سے دور ملال سے گزرے

    خوشی کے وقت سے دور ملال سے گزرے تری تلاش میں حد خیال سے گزرے ہمیں تو اصل میں تنہا تجھی سے ملنا تھا سو اک نظر میں ترے خد و خال سے گزرے بجھے بجھے سے ہیں غنچوں کی زندگی کے چراغ صبا سے کہہ دو چمن میں خیال سے گزرے ترے فقیر محبت کے ایک لمحہ میں ہزار بار عروج و زوال سے گزرے جنوں کی فطرت ...

    مزید پڑھیے

    رستے میں جتنے پیڑ ملے بے صدا ملے

    رستے میں جتنے پیڑ ملے بے صدا ملے گھر سے نکل پڑے تھے کہ تازہ ہوا ملے انسان کی تلاش ہے رب کریم کو انساں کی آرزو ہے کہیں پر خدا ملے جو شخص لمحہ لمحہ تجسس کے باوجود خود سے نہ مل سکا ہو زمانے سے کیا ملے یہ زندگی کچھ ایسے مرے ہاتھ آ گئی جیسے کسی فقیر کو سکہ پڑا ملے دھرتی نے آنسوؤں کو ...

    مزید پڑھیے

    دل مرا پائمال کرتے ہیں

    دل مرا پائمال کرتے ہیں آپ بھی بس کمال کرتے ہیں بات ہوتی ہے آپ کی لیکن لوگ مجھ سے سوال کرتے ہیں میکدے کے فقیر اے ساقی کب کسی سے سوال کرتے ہیں دل کا کیا غم ہمیں محبت میں دل کی وہ دیکھ بھال کرتے ہیں مجھ کو کہتے ہیں لوگ دیوانہ آپ ناحق خیال کرتے ہیں چوٹ لگتی ہے دل پہ اے ہمدم جب وطن ...

    مزید پڑھیے

    حسن جاناں نظر نہیں آتا

    حسن جاناں نظر نہیں آتا آہ میں کچھ اثر نہیں آتا شعلۂ غم نظر نہیں آتا اب کوئی بھی ادھر نہیں آتا دل شب غم سے ہو گیا مانوس اب خیال سحر نہیں آتا عشق احسان سے عبارت ہے عشق ناداں نظر نہیں آتا ہوش مندوں کی اس خدائی میں کوئی دیوانہ گر نہیں آتا کب سے ہیں فرش راہ دیدہ و دل آنے والا مگر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2