گلوں کو صحن چمن میں قرار کیا ہوگا
گلوں کو صحن چمن میں قرار کیا ہوگا خزاں کے دور میں شکر بہار کیا ہوگا یہ شب امید سحر میں گزار دی لیکن سحر سے تا بہ شب انتظار کیا ہوگا ہوائے دشت جو دیوانہ وار گزری ہے نہ جانے آج لب جوئبار کیا ہوگا جسے الم بھی محبت میں راس آ نہ سکا کسی خوشی کا اسے اعتبار کیا ہوگا بجا نصیحت ترک ...