Masood Maikash Muradabadi

مسعود میکش مراد آبادی

مسعود میکش مراد آبادی کی غزل

    گلوں کو صحن‌ چمن میں قرار کیا ہوگا

    گلوں کو صحن‌ چمن میں قرار کیا ہوگا خزاں کے دور میں شکر بہار کیا ہوگا یہ شب امید سحر میں گزار دی لیکن سحر سے تا بہ شب انتظار کیا ہوگا ہوائے دشت جو دیوانہ وار گزری ہے نہ جانے آج لب جوئبار کیا ہوگا جسے الم بھی محبت میں راس آ نہ سکا کسی خوشی کا اسے اعتبار کیا ہوگا بجا نصیحت ترک ...

    مزید پڑھیے

    ختم جس دن شورش آہ و فغاں ہو جائے گی

    ختم جس دن شورش آہ و فغاں ہو جائے گی زندگی انسان پر بار گراں ہو جائے گی قوت احساس اگر صرف فغاں ہو جائے گی نقش فریادی مری عمر رواں ہو جائے گی گر یہی دیوانگی ہے رہروان عشق کی منزل مقصود گرد کارواں ہو جائے گی آج سجدوں کی فراوانی سے ہوتا ہے گماں خود جبین شوق تیرا آستاں ہو جائے گی جو ...

    مزید پڑھیے

    وہ ملے ہیں مگر ملول ہیں ہم

    وہ ملے ہیں مگر ملول ہیں ہم جو خزاں میں کھلے وہ پھول ہیں ہم ہم کو ظلمت پناہ مت جانو اک نئی صبح کے رسول ہیں ہم اس توجہ کا کیا ٹھکانہ ہے تیری پہلی نظر کی بھول ہیں ہم تشنگی تو ہمیں قبول نہ تھی تشنگی کو مگر قبول ہیں ہم اس بدلتی نگاہ سے پوچھو عشق کا معتبر اصول ہیں ہم کتنے بے کیف کس ...

    مزید پڑھیے

    شب فراق کا دھوکا کبھی سحر کا فریب

    شب فراق کا دھوکا کبھی سحر کا فریب کمال ذوق تماشہ ہے یا نظر کا فریب مجھے حیات کی سرحد سے دور لے آیا گرفت ہوش سے پہلے تری نظر کا فریب غبار راہ میں گم ہو گئے رہین سفر مگر نہ ٹوٹ سکا پھر بھی راہبر کا فریب مری حیات تری زلف کی پناہ میں ہے شکست دے نہ سکے گا مجھے سحر کا فریب تری نظر کا ...

    مزید پڑھیے

    کعبہ محدود ہے پابند صنم خانہ ہے

    کعبہ محدود ہے پابند صنم خانہ ہے عشق ہر قید خیالات سے بیگانہ ہے کس قدر شوخ مری فطرت رندانہ ہے لب پہ ہے نام خدا ہاتھ میں پیمانہ ہے خاک ہونے پہ بھی دامان شرر ہی میں رہا کس قدر شعلہ فشاں فطرت پروانہ ہے فیصلہ جذبۂ وحشت ہے تجھی پر موقوف یہ قفس ہے یہ گلستاں ہے یہ ویرانہ ہے فرصت فکر و ...

    مزید پڑھیے

    فغاں سے ضبط جنوں کا نظام ٹوٹ گیا

    فغاں سے ضبط جنوں کا نظام ٹوٹ گیا کہ میرے ہاتھ سے میرا ہی جام ٹوٹ گیا وہی ہیں طوق و سلاسل وہی نظام چمن وہ کون ہیں جو یہ کہتے ہیں دام ٹوٹ گیا ضرور پیر مغاں کا بھی کچھ اشارہ تھا غلط کہا کہ مقدر سے جام ٹوٹ گیا بکھر گئے مری خاطر حیات کے گیسو کبھی جو شب کے ستاروں کا دام ٹوٹ گیا کیا تھا ...

    مزید پڑھیے

    کہیں قابل کرم ہے کہیں پیکر ستم بھی

    کہیں قابل کرم ہے کہیں پیکر ستم بھی یہی زندگی جہنم یہی زندگی ارم بھی میں وہ حرف اولیں ہوں نہ مٹا سکا زمانہ کہ ہزار مجھ سے الجھے یہ جہاں کے پیچ و خم بھی یہی فرق تو ہے ناداں ترے غم میں میرے غم میں تجھے دوستوں کا غم ہے مجھے دشمنوں کا غم بھی نہ خرد ہی ہم سفر ہے نہ جنوں ہی راہبر ہے یہ ...

    مزید پڑھیے

    حیات و موت کے پردے گرا کے

    حیات و موت کے پردے گرا کے تمہیں دیکھا ہے تم سے بھی چھپا کے مجھے تڑپا رہے ہیں یاد آ کے وہ لمحات حسیں عہد وفا کے وہاں دامن کو الجھائے ہوئے ہوں گزرنا تھا جہاں دامن بچا کے مری خودداریوں کی لاج رکھ لی میں صدقے اس دل بے مدعا کے تری محفل میں خالی ہاتھ آئے کسی امید پر سب کچھ لٹا ...

    مزید پڑھیے

    تذکرہ دل کا بار بار نہ کر

    تذکرہ دل کا بار بار نہ کر حسن کو حسن شرمسار نہ کر لطف نظارۂ بہار اٹھا شرح اجزائے برگ و بار نہ کر قد و گیسو کو داد عشرت دے فکر آداب گیر و دار نہ کر بڑھ کے ساغر اٹھا جو پینا ہے اذن ساقی کا انتظار نہ کر شوق کی روشنی میں بڑھتا جا کچھ خیال مآل کار نہ کر دن جو گزریں بغیر شاہد و ...

    مزید پڑھیے

    جذب ہونے بھی نہ پائے تھے ہمارے آنسو

    جذب ہونے بھی نہ پائے تھے ہمارے آنسو یاد پھر آ گئے بھولے سے تمہارے آنسو بن ہی جاتے کبھی ہستی کے سہارے آنسو ہائے رک ہی نہ سکے ہم سے ہمارے آنسو میری آنکھوں میں رہے وہ تو کھٹکتے ہی رہے ان کے دامن پہ بنے چاند ستارے آنسو ٹوٹتی ہے دل غمگیں پہ قیامت کیا کیا آ کے پلکوں پہ جو رکتے ہیں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2