Masood Maikash Muradabadi

مسعود میکش مراد آبادی

مسعود میکش مراد آبادی کی نظم

    فیض احمد فیضؔ کے نام

    گل سحر کی نہ گیسوئے شام کی خوشبو فضا فضا میں ہے تیرے کلام کی خوشبو چمن سے کنج قفس تک قفس سے دار تلک کہاں کہاں نہ گئی تیرے نام کی خوشبو متاع دست صبا ہو کہ نقش فریادی ہر ایک زخم میں درد عوام کی خوشبو کھنک گئی ہے جہاں تیرے پاؤں کی زنجیر بکھر گئی ہے وہاں احترام کی خوشبو دل و دماغ کو ...

    مزید پڑھیے

    شعاع عید

    چند لمحات کہ ہر سال چلے آتے ہیں جیسے صحرا میں گلابوں کی مہک آ جائے جیسے ظلمت میں اجالوں کی کھنک آ جائے جیسے آ جائے تصور میں کوئی زہرہ جبیں جیسے تاریک فضاؤں میں ستاروں کا جمال جیسے اک درد بھرے دل میں مسرت کا خیال جیسے بچھڑے ہوئے ہم راز کے ملنے کا یقیں جیسے تالاب کے سینے پہ کھلے ...

    مزید پڑھیے