Masood Maikash Muradabadi

مسعود میکش مراد آبادی

مسعود میکش مراد آبادی کے تمام مواد

15 غزل (Ghazal)

    گلوں کو صحن‌ چمن میں قرار کیا ہوگا

    گلوں کو صحن‌ چمن میں قرار کیا ہوگا خزاں کے دور میں شکر بہار کیا ہوگا یہ شب امید سحر میں گزار دی لیکن سحر سے تا بہ شب انتظار کیا ہوگا ہوائے دشت جو دیوانہ وار گزری ہے نہ جانے آج لب جوئبار کیا ہوگا جسے الم بھی محبت میں راس آ نہ سکا کسی خوشی کا اسے اعتبار کیا ہوگا بجا نصیحت ترک ...

    مزید پڑھیے

    ختم جس دن شورش آہ و فغاں ہو جائے گی

    ختم جس دن شورش آہ و فغاں ہو جائے گی زندگی انسان پر بار گراں ہو جائے گی قوت احساس اگر صرف فغاں ہو جائے گی نقش فریادی مری عمر رواں ہو جائے گی گر یہی دیوانگی ہے رہروان عشق کی منزل مقصود گرد کارواں ہو جائے گی آج سجدوں کی فراوانی سے ہوتا ہے گماں خود جبین شوق تیرا آستاں ہو جائے گی جو ...

    مزید پڑھیے

    وہ ملے ہیں مگر ملول ہیں ہم

    وہ ملے ہیں مگر ملول ہیں ہم جو خزاں میں کھلے وہ پھول ہیں ہم ہم کو ظلمت پناہ مت جانو اک نئی صبح کے رسول ہیں ہم اس توجہ کا کیا ٹھکانہ ہے تیری پہلی نظر کی بھول ہیں ہم تشنگی تو ہمیں قبول نہ تھی تشنگی کو مگر قبول ہیں ہم اس بدلتی نگاہ سے پوچھو عشق کا معتبر اصول ہیں ہم کتنے بے کیف کس ...

    مزید پڑھیے

    شب فراق کا دھوکا کبھی سحر کا فریب

    شب فراق کا دھوکا کبھی سحر کا فریب کمال ذوق تماشہ ہے یا نظر کا فریب مجھے حیات کی سرحد سے دور لے آیا گرفت ہوش سے پہلے تری نظر کا فریب غبار راہ میں گم ہو گئے رہین سفر مگر نہ ٹوٹ سکا پھر بھی راہبر کا فریب مری حیات تری زلف کی پناہ میں ہے شکست دے نہ سکے گا مجھے سحر کا فریب تری نظر کا ...

    مزید پڑھیے

    کعبہ محدود ہے پابند صنم خانہ ہے

    کعبہ محدود ہے پابند صنم خانہ ہے عشق ہر قید خیالات سے بیگانہ ہے کس قدر شوخ مری فطرت رندانہ ہے لب پہ ہے نام خدا ہاتھ میں پیمانہ ہے خاک ہونے پہ بھی دامان شرر ہی میں رہا کس قدر شعلہ فشاں فطرت پروانہ ہے فیصلہ جذبۂ وحشت ہے تجھی پر موقوف یہ قفس ہے یہ گلستاں ہے یہ ویرانہ ہے فرصت فکر و ...

    مزید پڑھیے

تمام

2 نظم (Nazm)

    فیض احمد فیضؔ کے نام

    گل سحر کی نہ گیسوئے شام کی خوشبو فضا فضا میں ہے تیرے کلام کی خوشبو چمن سے کنج قفس تک قفس سے دار تلک کہاں کہاں نہ گئی تیرے نام کی خوشبو متاع دست صبا ہو کہ نقش فریادی ہر ایک زخم میں درد عوام کی خوشبو کھنک گئی ہے جہاں تیرے پاؤں کی زنجیر بکھر گئی ہے وہاں احترام کی خوشبو دل و دماغ کو ...

    مزید پڑھیے

    شعاع عید

    چند لمحات کہ ہر سال چلے آتے ہیں جیسے صحرا میں گلابوں کی مہک آ جائے جیسے ظلمت میں اجالوں کی کھنک آ جائے جیسے آ جائے تصور میں کوئی زہرہ جبیں جیسے تاریک فضاؤں میں ستاروں کا جمال جیسے اک درد بھرے دل میں مسرت کا خیال جیسے بچھڑے ہوئے ہم راز کے ملنے کا یقیں جیسے تالاب کے سینے پہ کھلے ...

    مزید پڑھیے