Maryam Gazala

مریم غزالہ

مریم غزالہ کے تمام مواد

4 غزل (Ghazal)

    ناؤ تنہا ہے اور بھنور تنہا

    ناؤ تنہا ہے اور بھنور تنہا میں بھی تنہا مرا سفر تنہا محفلیں میرے پیچھے آئیں گی میں چلی جاؤں گی مگر تنہا بزم میں زہر میں نے پی تو لیا جھیلتی ہوں میں اب اثر تنہا راز کی بات کھل نہ جائے کہیں اس سے کہنا مری خبر تنہا کارواں جس طرف سے گزرا تھا دیکھتی ہوں میں وہ ڈگر تنہا

    مزید پڑھیے

    دیر تک ہم ایک سایا راہ پر دیکھا کئے

    دیر تک ہم ایک سایا راہ پر دیکھا کئے کون تھا وہ ہم یہ اپنے آپ سے پوچھا کئے جھیل کے ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر پھینک کر دائرہ اٹھتی ہوئی لہروں کا ہم دیکھا کئے ایسا لگتا ہے کہ کوئی حادثہ گزرا یہاں سسکیاں لیتی ہوئی سونی ڈگر دیکھا کئے کھیت جتنے تھے وہ پیاسے کے پیاسے ہی رہے اور بادل ...

    مزید پڑھیے

    وقت ہے کیوں اس قدر ٹھہرا ہوا

    وقت ہے کیوں اس قدر ٹھہرا ہوا زخم میرا اور بھی گہرا ہوا راہ پر تنہا چلے جاتے تھے ہم قافلہ صحرا میں تھا بھٹکا ہوا ہر کوئی قاتل اسے لگنے لگا سانس بھی لیتا ہے وہ ڈرتا ہوا ہر قدم کو سوچ کر رکھے گا اب حادثہ ہے راہ میں چلتا ہوا ہوتے ہوتے ختم ہی ہو جائے گا عمر کا سورج بھی ہے ڈھلتا ہوا

    مزید پڑھیے

    کتر گیا ہے مری عمر کی کتاب کوئی

    کتر گیا ہے مری عمر کی کتاب کوئی ملا کہیں سے بھی سالم نہ آج باب کوئی بھٹکتی راہی ہوں پہنچوں کہاں سے منزل پر یہ جرم وہ ہے کہ جس کا نہیں حساب کوئی میں ڈھونڈھتی رہی صحرا میں رات کے لیکن کہیں ملا ہی نہیں نیند کا گلاب کوئی نگر میں اور بھی کتنے ہیں بد نصیب مگر مرے بھی جیسا نہ ہو خانماں ...

    مزید پڑھیے

2 نظم (Nazm)

    تم آ گئے ہو

    کل تلک تو کانچ کے برتن سی چکنا چور دنیا میرے چاروں طرف بکھری پڑی تھی مگر دور سے آواز دیتا ہے کوئی مجھے کانچ کے ٹکڑے اچانک جڑ گئے ہیں تم آ گئے ہو

    مزید پڑھیے

    روح کا اصلی وجود

    گرد سے اٹی ہوئی خون سے بھری ہوئی زخم خوردہ اور شکستہ روح کو اپنے بستے میں چھپائے کب تلک تم رکھ سکو گے خواب آور گولیوں سے طاقت رفتار لے کر ہوش سے آنکھیں بچا کر کب تلک چلتے رہو گے ایک دن تو موڑ ایسا آئے گا جب اپنے بستے میں چھپی یہ نا مکمل روح خون اپنا وجود تم سے واپس مانگ لے گی اس گھڑی ...

    مزید پڑھیے