ناؤ تنہا ہے اور بھنور تنہا
ناؤ تنہا ہے اور بھنور تنہا میں بھی تنہا مرا سفر تنہا محفلیں میرے پیچھے آئیں گی میں چلی جاؤں گی مگر تنہا بزم میں زہر میں نے پی تو لیا جھیلتی ہوں میں اب اثر تنہا راز کی بات کھل نہ جائے کہیں اس سے کہنا مری خبر تنہا کارواں جس طرف سے گزرا تھا دیکھتی ہوں میں وہ ڈگر تنہا