Maryam Gazala

مریم غزالہ

مریم غزالہ کی غزل

    ناؤ تنہا ہے اور بھنور تنہا

    ناؤ تنہا ہے اور بھنور تنہا میں بھی تنہا مرا سفر تنہا محفلیں میرے پیچھے آئیں گی میں چلی جاؤں گی مگر تنہا بزم میں زہر میں نے پی تو لیا جھیلتی ہوں میں اب اثر تنہا راز کی بات کھل نہ جائے کہیں اس سے کہنا مری خبر تنہا کارواں جس طرف سے گزرا تھا دیکھتی ہوں میں وہ ڈگر تنہا

    مزید پڑھیے

    دیر تک ہم ایک سایا راہ پر دیکھا کئے

    دیر تک ہم ایک سایا راہ پر دیکھا کئے کون تھا وہ ہم یہ اپنے آپ سے پوچھا کئے جھیل کے ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر پھینک کر دائرہ اٹھتی ہوئی لہروں کا ہم دیکھا کئے ایسا لگتا ہے کہ کوئی حادثہ گزرا یہاں سسکیاں لیتی ہوئی سونی ڈگر دیکھا کئے کھیت جتنے تھے وہ پیاسے کے پیاسے ہی رہے اور بادل ...

    مزید پڑھیے

    وقت ہے کیوں اس قدر ٹھہرا ہوا

    وقت ہے کیوں اس قدر ٹھہرا ہوا زخم میرا اور بھی گہرا ہوا راہ پر تنہا چلے جاتے تھے ہم قافلہ صحرا میں تھا بھٹکا ہوا ہر کوئی قاتل اسے لگنے لگا سانس بھی لیتا ہے وہ ڈرتا ہوا ہر قدم کو سوچ کر رکھے گا اب حادثہ ہے راہ میں چلتا ہوا ہوتے ہوتے ختم ہی ہو جائے گا عمر کا سورج بھی ہے ڈھلتا ہوا

    مزید پڑھیے

    کتر گیا ہے مری عمر کی کتاب کوئی

    کتر گیا ہے مری عمر کی کتاب کوئی ملا کہیں سے بھی سالم نہ آج باب کوئی بھٹکتی راہی ہوں پہنچوں کہاں سے منزل پر یہ جرم وہ ہے کہ جس کا نہیں حساب کوئی میں ڈھونڈھتی رہی صحرا میں رات کے لیکن کہیں ملا ہی نہیں نیند کا گلاب کوئی نگر میں اور بھی کتنے ہیں بد نصیب مگر مرے بھی جیسا نہ ہو خانماں ...

    مزید پڑھیے