دیر تک ہم ایک سایا راہ پر دیکھا کئے

دیر تک ہم ایک سایا راہ پر دیکھا کئے
کون تھا وہ ہم یہ اپنے آپ سے پوچھا کئے


جھیل کے ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر پھینک کر
دائرہ اٹھتی ہوئی لہروں کا ہم دیکھا کئے


ایسا لگتا ہے کہ کوئی حادثہ گزرا یہاں
سسکیاں لیتی ہوئی سونی ڈگر دیکھا کئے


کھیت جتنے تھے وہ پیاسے کے پیاسے ہی رہے
اور بادل پربتوں پر جھوم کر برسا کئے


رات دن دل کی خلش بڑھتی گئی بڑھتی گئی
چارہ گر چپ تھے غزالہؔ ہم نفس دیکھا کئے