Maroof Dehlvi

معروف دہلوی

معروف دہلوی کی غزل

    فلک کے ہاتھوں جدھر منہ اٹھائے جاتا ہوں

    فلک کے ہاتھوں جدھر منہ اٹھائے جاتا ہوں ادھر سے جوں گل بازی طپانچہ کھاتا ہوں کبھی ہے آنکھوں میں زر دیدہ پہ نگہ ان کی کہ میں ہر ایک سے آنکھ اپنی اب چراتا ہوں ہوا کے گھوڑے پہ جب وہ سوار ہوتے ہیں تو پا کے وقت میں کیا کیا مزے اڑاتا ہوں خلافی ان کے وہ آنکھیں جو یاد آتی ہیں تو اپنی ...

    مزید پڑھیے

    دل نہیں اس لب خنداں کی طرف جاتا ہے

    دل نہیں اس لب خنداں کی طرف جاتا ہے تشنہ لب چشمۂ حیواں کی طرف جاتا ہے یار تجھ بن مجھے لے جاتے ہیں یوں باغ میں کھینچ جیسے مجرم کوئی زنداں کی طرف جاتا ہے محو یاں تک ہوں تصور میں ترے از رہ شوق ہاتھ ہر دم ترے داماں کی طرف جاتا ہے بد گماں یہ ہوں کہ ساتھ اٹھ کے چلا جاتا ہوں وہم گر کوچۂ ...

    مزید پڑھیے

    اول تو میں رکتا نہیں اور جس سے رکوں میں

    اول تو میں رکتا نہیں اور جس سے رکوں میں تا حشر یہ ممکن نہیں پھر اس سے ملوں میں یہ اور سنائی کہ مری بات تو سن لے جو تیری کہے آن کے اس کی نہ سنوں میں یہ خوب کہی دیکھیں گے کب تک نہ ملے گا اس بات پہ گر چاہو تو اب شرم کروں میں آپس میں اگر چرخ و زمیں دنوں یہ مل جائیں تو بھی نہ کبھی تجھ سے ...

    مزید پڑھیے

    لکھوں فراق کی گر واردات وصلی پر

    لکھوں فراق کی گر واردات وصلی پر جدا جدا ہوں تپاں مفردات‌ وصلی پر لکھا تھا میں نے جو بخت سیاہ کا احوال گری سیاہی کی آخر دوات وصلی پر ہمارے یار نے طفلی میں بھی سوائے ستم لکھا نہیں رقم التفات وصلی پر یہ بات نکلے ہے انداز سے کہ اب معروفؔ لکھے گا اس لب شیریں کی بات وصلی پر

    مزید پڑھیے

    کب تصور میں ترے دیدۂ تر بند کیا

    کب تصور میں ترے دیدۂ تر بند کیا خانۂ آئنہ میں تجھ کو نظر بند کیا کیا نزاکت ہے صبا اس کی کمر کی جس نے صبح دم تار رگ گل سے کمر بند کیا دل کا احوال جو کھلتا نہیں تو نے اے چشم قاصد اشک کو آنے سے مگر بند کیا راحت خواب عدم دیکھ کے سب نے یک دست نقش پا سے کف ہر خاک میں دربند کیا دیکھ ...

    مزید پڑھیے

    وہ نگہ دل پہ پڑی داغ جگر کے ہوتے

    وہ نگہ دل پہ پڑی داغ جگر کے ہوتے دکھائی تلوار صدا افسوس سپر کے ہوتے کعبہ و دیر کو اپنا تو یہیں سے ہے سلام در بدر کون پھرے یار کے در کے ہوتے تیری آنکھوں کے تصور میں ہے سیر کونین ورنہ ہم لوگ ادھر کے نہ ادھر کے ہوتے ہم کو معروفؔ اگر شیر سواری دیتا تو بھی پابوس سگ یار اتر کے ہوتے

    مزید پڑھیے

    پوچھو نہ کچھ کٹے ہے اب اوقات کس طرح

    پوچھو نہ کچھ کٹے ہے اب اوقات کس طرح ہے یہ ہی غم کہ آئیں گے وہ ہات کس طرح معروفؔ سے یہ میں نے جو پوچھا کہ ان دنوں بتلا ترے گزرتے ہے اوقات کس طرح کہنے لگا کہ روتے گزرتا ہے مجھ کو دن پھر میں کہا کہ دن تو ہوا رات کس طرح بولا کہ رات وقت ملاقات یار ہے پوچھا جو میں کہ شکل ملاقات کس ...

    مزید پڑھیے

    لے چلو مجھ کو اس آئینۂ رخسار کے پاس

    لے چلو مجھ کو اس آئینۂ رخسار کے پاس خاک اس زیست پہ جو یار نہ ہو یار کے پاس نرگس چشم کا مت رکھ دل رنجور خیال یعنی بیمار کو رکھتے نہیں بیمار کے پاس سر مرا تن سے اگر دور کیا سر صدقے رکھیو قاتل تو مجھے اپنی ہی دیوار کے پاس چشم مست اس کی سے آخر کو ہوئی ہم بھی خراب ہے یہی اس کی سزا ...

    مزید پڑھیے

    نہ خواہش ہے گدائی کی نہ ہے ارمان شاہی کا

    نہ خواہش ہے گدائی کی نہ ہے ارمان شاہی کا الٰہی عشق دے بندے کو محبوب الٰہی کا اگر رکھے ترے کوچے کی سرحد سے قدم باہر گماں پھر خضر پر لے جائیں ہم گم کردہ راہی کا یہاں تو داغ‌ خوں دامن سے دھویا تو نے اے حامل وہاں اک دن کھلے گا گل ہماری بے گناہی کا بہت عاشق تو مقتول نگاہ و غمزہ ہیں ...

    مزید پڑھیے

    چلنے میں سایہ ہم قد جاناں ہے دوسرا

    چلنے میں سایہ ہم قد جاناں ہے دوسرا کیا صاف مصرع ایک سے چسپاں ہے دوسرا بولے وہ اپنی شکل کو آپ آئنے میں دیکھ دریا کے پار اور گلستاں ہے دوسرا بے جا نہیں گر اس کا فلک پر دماغ ہو یارو زمیں پہ وہ مہ تاباں ہے دوسرا معروفؔ کس کا یاں سے نکلنے کو جی کرے دہلی عجب جگہ ہے پرستاں ہے دوسرا

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3