Maroof Dehlvi

معروف دہلوی

معروف دہلوی کی غزل

    بس ہی ہمیں یک نظر مثل شرر دیکھنا

    بس ہی ہمیں یک نظر مثل شرر دیکھنا کس کو ملے با نصیب بار دگر دیکھنا آئینہ ساں کیا غرض ہم کو بد و نیک سے سامنے جو آ گیا ایک نظر دیکھنا اور تو باتیں بری چھٹ گئیں سب جیتے جی آنکھ مندے پر چھٹا ایک مگر دیکھنا سر کو اٹھ کر ذرا دیکھیے میری طرف آ کے ادھر بیٹھنا اور ادھر دیکھنا دیکھیے ...

    مزید پڑھیے

    اس زلف پہ محو ہو گئے ہم

    اس زلف پہ محو ہو گئے ہم یعنی سر شام سو گئے ہم کہتے تھے ہمیشہ جاؤ جاؤ آخر اک روز لو گئے ہم اے مہر لقا مثال سایہ تجھ میں اپنے کو کھو گئے ہم اپنے آمد و رفت موج دریا جاتے نہیں یاں سے گو گئے ہم کیا شعر ہیں آب دار معروفؔ گویا موتی پرو گئے ہم

    مزید پڑھیے

    نہ ہم محو خیال ابروے خم دار سوتے ہیں

    نہ ہم محو خیال ابروے خم دار سوتے ہیں سپاہی ہیں زبس باندھے ہوئے تلوار سوتے ہیں تمہارا سوتے سوتے چونک پڑنا کھب گیا دل میں کہ اکثر خود بخود ہو ہو کے ہم بیدار سوتے ہیں الٰہی ہم کو ہے کس کا خیال خواب و بیداری جو لاکھوں ہار اٹھتے ہیں ہزاروں یار سوتے ہیں نگاہ مست ساقی میں ہے کیا ...

    مزید پڑھیے

    شکل عکس و آئنہ مسجد تھی یا مے خانہ تھا

    شکل عکس و آئنہ مسجد تھی یا مے خانہ تھا آپ تو مہمان تھا اور آپ صاحب خانہ تھا کس کو جرأت تھی جو کرتا تیری آرائش گری صورت شمشاد تو خود زلف تھا خوش شانہ تھا حسن سے تیرے ہوا ہے عشق کا بازار گرم تو اگر جلوہ نہ کرتا ہم کو بھی سودا نہ تھا تھی سحر معروفؔ شاخ سرو گل خم جا بہ جا ہر کف خاک چمن ...

    مزید پڑھیے

    جام دے اور نہ کر وقت پہ تکرار کہ بس

    جام دے اور نہ کر وقت پہ تکرار کہ بس ساقیا ابر اٹھا ہے یہ دھواں دھار کہ بس کیا تماشا ہے جو کل رات وہ لائے تشریف بے خودی نے یہ لیا آن کے یکبار کہ بس کیوں نہ دل ایسے کو دوں میں نے کل ان سے جو کہا درد ہوتا ہے مرے دل میں یہ اے یار کہ بس سنتے ہی ہو کہ ہم آغوش کہا ہنس کے تجھے درد دل کی ہے ...

    مزید پڑھیے

    سگ لیلیٰ کے نقش پا ہیں ہم

    سگ لیلیٰ کے نقش پا ہیں ہم یعنی مجنوں کے رہنما ہیں ہم کیوں نہ ہو دشمنوں کے گھر ماتم دوست کے کشتۂ جفا ہیں ہم تم کو دل کی بھی ہے کسو کے خبر دل میں خوش ہو کہ دل ربا ہیں ہم جس قدر ہم کو سمجھئے بے قدر قدر میں اس سے بھی سوا ہیں ہم کیوں نہ مٹی خراب ہو اپنی اس خرابات کی بنا ہیں ہم کس سے ...

    مزید پڑھیے

    دید دنیا حباب کی سی ہے

    دید دنیا حباب کی سی ہے اس کی تعبیر خواب کی سی ہے ساقیا مے کہاں ہے شیشے میں روشنی آفتاب کی سی ہے پیرہن میں نمود تن سے ترے ہلکی ایک تہ شہاب کی سی ہے کس کا وصف دہن کیا تھا کہ آج منہ میں خوشبو گلاب کی سی ہے حالت اب دل کی ہجر میں معروفؔ ایک شہر خراب کی سی ہے

    مزید پڑھیے

    چپکے چپکے ایک تو ٹیس آپ جمانی اوروں سے

    چپکے چپکے ایک تو ٹیس آپ جمانی اوروں سے تس الٹی ہم کو تہمت آ کے لگانی اوروں سے ہم سے تو بس باندھے رکھتی شرم کی پٹی آنکھوں پر چوری چوری محفل میں پر آنکھ لڑانی اوروں سے اوروں کے تو ہم سے نہ کہنے ہم سے لے کر جی کی بات جوں کی توں سب بات یہ کیوں جی جا کے سنانی اوروں سے مجھ سے کہو ہو آہیں ...

    مزید پڑھیے

    کر نہ رسوا دل بیتاب بس اے وائے ہمیں

    کر نہ رسوا دل بیتاب بس اے وائے ہمیں شب کے نالوں سے خجل کرتے ہیں ہم سایے ہمیں دوستو بہر خطا کوئی تو بتلاؤ علاج کہ شب ہجر سر شام سے نیند آئے ہمیں تعزیت نامۂ افتادہ سر راہ میں ہم رو پڑے دیکھ کے جو شخص پڑا پائے ہمیں خوب رویوں کو جہاں دیکھتے ہیں اے معروفؔ حسرت آتی ہے کہ ایسا نہ کیا ...

    مزید پڑھیے

    آہ وہ کون تھا خدا مارا

    آہ وہ کون تھا خدا مارا جس نے اس سے مجھے لگا مارا کیا غضب تھی وہ جنبش ابرو صاف جیسے کہ نیمچا مارا بعد مدت ملے تھے کل ان سے آج لوگوں نے پھر لگا مارا وصل کی شب بھی میں نہ سویا آہ روز ہجر ان کے خوف کا مارا پا کے مرضی کھلا جو باتوں میں یہ ہنسایا کہ بس لٹا مارا جنس‌ صبر و خرد لٹے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3