دل نہیں اس لب خنداں کی طرف جاتا ہے
دل نہیں اس لب خنداں کی طرف جاتا ہے
تشنہ لب چشمۂ حیواں کی طرف جاتا ہے
یار تجھ بن مجھے لے جاتے ہیں یوں باغ میں کھینچ
جیسے مجرم کوئی زنداں کی طرف جاتا ہے
محو یاں تک ہوں تصور میں ترے از رہ شوق
ہاتھ ہر دم ترے داماں کی طرف جاتا ہے
بد گماں یہ ہوں کہ ساتھ اٹھ کے چلا جاتا ہوں
وہم گر کوچۂ جاناں کی طرف جاتا ہے
کیا کسی پردہ نشیں پر ہے تو عاشق معروفؔ
چھپ کے جو گوشۂ پنہاں کی طرف جاتا ہے