Maroof Dehlvi

معروف دہلوی

معروف دہلوی کی غزل

    آہ وہ کون تھا خدا مارا

    آہ وہ کون تھا خدا مارا جس نے اس سے مجھے لگا مارا ایک ہے تو بھی بد بلا اے چشم دل کو پھر زلف میں پھنسا مارا کیا غضب بھی وہ جنبش ابرو صاف جس نے کہ نیمچا مارا بعد مدت ملے تھے کل ان سے آج لوگوں نے پھر لڑا مارا وصل کی شب بھی میں نہ سویا آہ شب ہجراں کے خوف کا مارا

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3