Maroof Dehlvi

معروف دہلوی

معروف دہلوی کے تمام مواد

21 غزل (Ghazal)

    فلک کے ہاتھوں جدھر منہ اٹھائے جاتا ہوں

    فلک کے ہاتھوں جدھر منہ اٹھائے جاتا ہوں ادھر سے جوں گل بازی طپانچہ کھاتا ہوں کبھی ہے آنکھوں میں زر دیدہ پہ نگہ ان کی کہ میں ہر ایک سے آنکھ اپنی اب چراتا ہوں ہوا کے گھوڑے پہ جب وہ سوار ہوتے ہیں تو پا کے وقت میں کیا کیا مزے اڑاتا ہوں خلافی ان کے وہ آنکھیں جو یاد آتی ہیں تو اپنی ...

    مزید پڑھیے

    دل نہیں اس لب خنداں کی طرف جاتا ہے

    دل نہیں اس لب خنداں کی طرف جاتا ہے تشنہ لب چشمۂ حیواں کی طرف جاتا ہے یار تجھ بن مجھے لے جاتے ہیں یوں باغ میں کھینچ جیسے مجرم کوئی زنداں کی طرف جاتا ہے محو یاں تک ہوں تصور میں ترے از رہ شوق ہاتھ ہر دم ترے داماں کی طرف جاتا ہے بد گماں یہ ہوں کہ ساتھ اٹھ کے چلا جاتا ہوں وہم گر کوچۂ ...

    مزید پڑھیے

    اول تو میں رکتا نہیں اور جس سے رکوں میں

    اول تو میں رکتا نہیں اور جس سے رکوں میں تا حشر یہ ممکن نہیں پھر اس سے ملوں میں یہ اور سنائی کہ مری بات تو سن لے جو تیری کہے آن کے اس کی نہ سنوں میں یہ خوب کہی دیکھیں گے کب تک نہ ملے گا اس بات پہ گر چاہو تو اب شرم کروں میں آپس میں اگر چرخ و زمیں دنوں یہ مل جائیں تو بھی نہ کبھی تجھ سے ...

    مزید پڑھیے

    لکھوں فراق کی گر واردات وصلی پر

    لکھوں فراق کی گر واردات وصلی پر جدا جدا ہوں تپاں مفردات‌ وصلی پر لکھا تھا میں نے جو بخت سیاہ کا احوال گری سیاہی کی آخر دوات وصلی پر ہمارے یار نے طفلی میں بھی سوائے ستم لکھا نہیں رقم التفات وصلی پر یہ بات نکلے ہے انداز سے کہ اب معروفؔ لکھے گا اس لب شیریں کی بات وصلی پر

    مزید پڑھیے

    کب تصور میں ترے دیدۂ تر بند کیا

    کب تصور میں ترے دیدۂ تر بند کیا خانۂ آئنہ میں تجھ کو نظر بند کیا کیا نزاکت ہے صبا اس کی کمر کی جس نے صبح دم تار رگ گل سے کمر بند کیا دل کا احوال جو کھلتا نہیں تو نے اے چشم قاصد اشک کو آنے سے مگر بند کیا راحت خواب عدم دیکھ کے سب نے یک دست نقش پا سے کف ہر خاک میں دربند کیا دیکھ ...

    مزید پڑھیے

تمام