ادا نہ دیکھی کوئی ان کی بے رخی کی طرح
ادا نہ دیکھی کوئی ان کی بے رخی کی طرح وہ ہم سے ملنے بھی آئے تو اجنبی کی طرح اٹھاؤ جام پیو مے کہ موسم گل ہے چٹک رہا ہے بدن اس کا چاندنی کی طرح بس اتنی عرض ہے تجھ سے اے داور محشر سزا ملے نہ ہمیں کوئی زندگی کی طرح جو اجنبی تھے یہاں شہریار بن بیٹھے جو شہریار تھے رہتے ہیں اجنبی کی ...