عشق جنوں نواز کو سرشار دیکھنا

عشق جنوں نواز کو سرشار دیکھنا
ہر درد کو ہے لذت آزار دیکھنا


اپنی نظر ہے اوج ثریا سے بھی بلند
ہر کم نظر کو زینت دیوار دیکھنا


کس کس کے نام آئے گا پروانۂ اجل
مقتل بنا ہے کوچۂ دل دار دیکھنا


رنگیں قبا یہ پھول تو کیا اس سے فائدہ
عریاں ہے زیر شاخ ہر اک خار دیکھنا


تھے جتنے حق پرست وہی ہو گئے شہید
اک ہم ہی رہ گئے ہیں سر دار دیکھنا


عاشق ہے اپنے آپ پہ وہ نازنیں نشاطؔ
صہبائے احمریں کو قدح خوار دیکھنا