Mardan Ali Khan Nishat

مردان علی خاں نشاط

  • 1928 - 2003

مردان علی خاں نشاط کی غزل

    ادا نہ دیکھی کوئی ان کی بے رخی کی طرح

    ادا نہ دیکھی کوئی ان کی بے رخی کی طرح وہ ہم سے ملنے بھی آئے تو اجنبی کی طرح اٹھاؤ جام پیو مے کہ موسم گل ہے چٹک رہا ہے بدن اس کا چاندنی کی طرح بس اتنی عرض ہے تجھ سے اے داور محشر سزا ملے نہ ہمیں کوئی زندگی کی طرح جو اجنبی تھے یہاں شہریار بن بیٹھے جو شہریار تھے رہتے ہیں اجنبی کی ...

    مزید پڑھیے

    چہروں پہ اب نقاب کہیں ہے کہیں نہیں

    چہروں پہ اب نقاب کہیں ہے کہیں نہیں شرم و حیا حجاب کہیں ہے کہیں نہیں ہلچل مچی کہیں ہے کہیں پر جمود ہے وہ شور انقلاب کہیں ہے کہیں نہیں اس حسن تیز گام کی تصویر کیا بنے جو حسن محو خواب کہیں ہے کہیں نہیں کتنے شباب ڈھل گئے فکر معاش میں رعنائی شباب کہیں ہے کہیں نہیں یہ فیض اہل دل کی ...

    مزید پڑھیے

    عشق جنوں نواز کو سرشار دیکھنا

    عشق جنوں نواز کو سرشار دیکھنا ہر درد کو ہے لذت آزار دیکھنا اپنی نظر ہے اوج ثریا سے بھی بلند ہر کم نظر کو زینت دیوار دیکھنا کس کس کے نام آئے گا پروانۂ اجل مقتل بنا ہے کوچۂ دل دار دیکھنا رنگیں قبا یہ پھول تو کیا اس سے فائدہ عریاں ہے زیر شاخ ہر اک خار دیکھنا تھے جتنے حق پرست وہی ...

    مزید پڑھیے

    راستہ میں اک نیا منظر نظر آیا تو کیا

    راستہ میں اک نیا منظر نظر آیا تو کیا ساتھ چلنے اپنے کوئی ہم سفر آیا تو کیا کون سلجھا پائے گا عشق و جنوں کی گتھیاں اہل دل آیا تو کیا اہل نظر آیا تو کیا وقف جب ہم نے کیا خود کو خدا کی راہ میں اپنے ہاتھوں میں لئے وہ سیم و زر آیا تو کیا بخشے جائیں گے غلامان نبی روز جزا واں فرشتہ کوئی ...

    مزید پڑھیے